آزاد ہندوستان
15 اگست 1947ء کے بعد آزاد ہندوستان نے جنم لیا لیکن آزادی کے ساتھ ایک
تلخ حقیقت بھی ہمارے سامنے آئ کہ جنگ آزادی کی تاریخ اور واقعات کو اس طرح توڑ موڑ
کر پیش کیا جانے لگا کہ مسلمان جو ایک صدی سے جنگ آزادی کہ میدان میں اگلی صفوں
میں تھا اس کی عظیم قربانیوں پر پردہ ڈال دیا گیا۔ حلانکہ ہمارے آباؤ اجداد نے
وطنِ عزیز کی عظمت اور آزادی کی خاطر خون کا آخری قطرہ تک بہا دیا۔ ہندوستان میں
بسنے والی مختلف قوموں کی عزت و حرمت بچانے کے لیے پہل ہم نے کی انگریزی سامراج کو
شکست دینے کے لۓ ہم تنہا جنگ آزادی کے میدان میں کود پڑے اور اس راہ میں اتنا خون
بہایا کہ پوری جنگِ آزادی میں دوسروں نے نہ بہایہ ہو گا۔ ہم نے برادرانِ وطن کا
انتظار نہیں کیا بلکہ برطانوی سامراج کہ خلاف آگے بڑھ کر سب سے پہلے بغاوت کا علم
بلند کیا کافی عرصہ تک یہ سفر ہم نے تنہا کیا اور اس کا نٹوں بھری وادی میں صرف
ہمارے ہی پاؤں زخمی ہوتے رہے لیکن ہمارے پاۓ استقامت میں نہ جنبش ہوئ نہ لغزش
ہمارے عزائم بلند ہی رہے اور ہم آگے ہی بڑھتے رہے
اور جب ہم منزل سے ہمکنار ہوۓ تو؎
جب پڑا وقت گلستاں پہ تو
خوں ہم نے دیا
جب بہار آئ تو کہتے ہیں
ترا کام نہیں
لیکن تاریخ شاہد ہے
تحریکِ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ سب سے نمایاں رہا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ قائد
ورہنما کا پارٹ ادا کیا اور بے مثال قربانیوں کے بعد وطنِ عزیز کو غلامی کی
زنجیروں سے آزاد کرایا۔
جب کوئ مورخ ہندوستان کی
جنگ آزادی کی تاریخ غیر جانب دارانہ طور پے ترتیب دے گا تو یہ ممکن نہیں کہ وہ مسلمانوں
کی قربانیوں کو بلکل ہی نظر انداز کر دے۔
"حبِّ وطن سنت رسولﷺ
ہے"
(تحریکِ آزادئ
ہند اور مسلمان)

Comments
Post a Comment